✨ Developed by ABDUL WAJID, School Asst ✨

سبق 10: انگریزوں اور نظاموں کے تحت زمیندار اور ارکانِ دار

جماعت ہشتم - سماجی علوم (تلنگانہ اسٹیٹ سلیبس)

1️⃣ سبق کا تعارف

برطانوی دورِ حکومت میں ہندوستان کا زرعی نظام مکمل طور پر تبدیل ہو گیا تھا۔ انگریزوں نے زیادہ سے زیادہ لگان وصول کرنے کے لیے مختلف زمینی انتظامات رائج کیے۔ اسی طرح ریاست حیدرآباد میں نظاموں کے دور میں بھی کسانوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

اس سبق میں ہم دائمی بندوبست، رعیت واری نظام، اور حیدرآباد کے دیش مکھ و دیش پانڈے کے بارے میں مطالعہ کریں گے کہ کس طرح ان نظاموں نے کسانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا۔

2️⃣ کلیدی الفاظ اور معنی (Keywords)

کلیدی لفظ معنی و مطلب
دائمی بندوبست (Permanent Settlement) 1793 میں لارڈ کارنوالس کا شروع کردہ نظام جس میں لگان ہمیشہ کے لیے طے کر دیا گیا۔
رعیت واری (Ryotwari) وہ نظام جس میں حکومت براہ راست کسان (رعیت) سے لگان وصول کرتی تھی۔
بیگاری (Vetti) بغیر اجرت کے جبری طور پر مزدوری کروانا۔
سرفِ خاص (Sarf-e-Khas) نظامِ حیدرآباد کی ذاتی جاگیر یا زمینیں جن کا لگان شاہی خاندان کو جاتا تھا۔
پٹہ (Patta) زمین کی ملکیت کا سرکاری دستاویز۔

3️⃣ اہم نکات

◆ انگریزوں نے بنگال میں 1793 میں دائمی بندوبست رائج کیا جس نے زمینداروں کو زمین کا مالک بنا دیا۔

رعیت واری نظام تھامس منرو نے جنوبی ہندوستان (بشمول مدراس) میں نافذ کیا تاکہ زمینداروں کا اثر ختم ہو۔

◆ حیدرآباد میں دیش مکھ اور دیش پانڈے لگان جمع کرنے والے موروثی عہدیدار تھے جو کسانوں پر ظلم کرتے تھے۔

◆ کسانوں کو لگان ادا کرنے کے لیے ساہوکاروں سے قرض لینا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں سے محروم ہو گئے۔

◆ 19ویں صدی میں کسانوں نے ان مظالم کے خلاف کئی بغاوتیں کیں، جیسے دکن کی بغاوت۔

4️⃣ بہت مختصر سوالات

سوال 1: دائمی بندوبست کس نے اور کب متعارف کروایا؟

لارڈ کارنوالس نے 1793 میں متعارف کروایا۔

سوال 2: 'ویٹی' یا 'بیگاری' سے کیا مراد ہے؟

بیگاری سے مراد کسانوں یا مزدوروں سے بغیر کسی مزدوری یا اجرت کے زبردستی کام کروانا ہے۔

سوال 3: رعیت واری نظام کس نے متعارف کروایا؟

سر تھامس منرو نے۔

سوال 4: نظام کے دور میں 'جاگیردار' کون تھے؟

وہ افراد جنہیں خدمات کے بدلے زمین کا بڑا حصہ (جاگیر) بطور انعام دیا جاتا تھا۔

سوال 5: لگان ادا نہ کرنے پر کسانوں کے ساتھ کیا ہوتا تھا؟

ان کی زمینیں چھین لی جاتی تھیں یا انہیں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑتی تھیں۔

5️⃣ مختصر سوالات

سوال 1: دائمی بندوبست کے کسانوں پر کیا اثرات پڑے؟

  • لگان کی شرح بہت زیادہ مقرر کی گئی تھی۔
  • زمیندار کسانوں کا استحصال کرنے لگے۔
  • فصل کی ناکامی کے باوجود لگان میں رعایت نہیں ملتی تھی۔
  • کسان ساہوکاروں کے چنگل میں پھنس گئے۔

سوال 2: رعیت واری نظام دائمی بندوبست سے کس طرح مختلف تھا؟

  • دائمی بندوبست میں زمیندار درمیان میں تھا، جبکہ رعیت واری میں حکومت براہ راست کسان سے رابطہ کرتی تھی۔
  • دائمی بندوبست میں لگان مستقل تھا، جبکہ رعیت واری میں ہر 20 یا 30 سال بعد اس کا جائزہ لیا جاتا تھا۔

سوال 3: نظامِ حیدرآباد کے دور میں دیش مکھ کے اختیارات بیان کیجئے۔

دیش مکھ لگان وصول کرنے کے ذمہ دار تھے۔ وہ کئی دیہاتوں کے مالک بن گئے تھے اور کسانوں سے بیگاری کروانے کے علاوہ ان پر جرمانے بھی عائد کرتے تھے۔

سوال 4: 1875 کی دکن کی بغاوت کیوں ہوئی؟

ساہوکاروں کے بڑھتے ہوئے ظلم اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے کسانوں نے پونہ اور احمد نگر میں ساہوکاروں کے گھروں اور ان کے کھاتوں کو جلا دیا تھا۔

سوال 5: کیا انگریزی دور میں جنگلات کے قوانین نے قبائلیوں کو متاثر کیا؟

ہاں، جنگلاتی قوانین کے تحت قبائلیوں کا جنگل میں داخلہ اور وہاں زراعت (Podu) کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا، جس سے ان کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔

6️⃣ کثیر انتخابی سوالات

اسکور: 0

1. 'دائمی بندوبست' ہندوستان کے کس علاقے میں پہلے نافذ ہوا؟

الف) بنگال
ب) مدراس
ج) ممبئی
د) پنجاب

2. حیدرآباد میں نظام کی ذاتی زمینوں کو کیا کہا جاتا تھا؟

الف) دیوانی
ب) سرفِ خاص
ج) انعام
د) جاگیر

3. تھامس منرو نے کون سا نظام رائج کیا؟

الف) محل واری
ب) رعیت واری
ج) زمینداری
د) منصب داری

4. دکن کی کسانوں کی بغاوت کس سال ہوئی؟

الف) 1857
ب) 1885
ج) 1875
د) 1947

5. کسانوں کو قرض کون فراہم کرتا تھا؟

الف) گورنر جنرل
ب) ساہوکار (Moneylenders)
ج) کلکٹر
د) فوجی سپاہی

7️⃣ درست / غلط

1. دائمی بندوبست میں زمینداروں کو زمین کا مکمل مالک بنا دیا گیا تھا۔

2. 'ویٹی' نظام کے تحت کسانوں کو بھاری معاوضہ دیا جاتا تھا۔

3. نظامِ حیدرآباد نے لگان جمع کرنے کے لیے دیش مکھ کو مقرر کیا تھا۔

4. رعیت واری نظام میں کسان براہ راست حکومت کو لگان دیتے تھے۔

5. انگریزوں نے ہندوستان کی زراعت کی ترقی کے لیے بہت پیسہ خرچ کیا۔

8️⃣ جوڑ ملائیں

کالم 'الف' کالم 'ب'
لارڈ کارنوالس دائمی بندوبست
تھامس منرو رعیت واری نظام
دیش مکھ لگان وصول کرنے والے
بیگاری مفت مشقت
پٹہ زمینی دستاویز

9️⃣ پراجیکٹ ورک

سرگرمی:

اپنے گاؤں یا علاقے کے کسی بزرگ سے معلوم کریں کہ پرانے زمانے میں زمیندار کسانوں سے کس طرح لگان وصول کرتے تھے اور ان سے کیا کیا کام کروائے جاتے تھے۔ اس پر ایک رپورٹ تیار کریں۔

🔟 فوری نظرثانی

✅ انگریزوں کا بنیادی مقصد لگان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا تھا۔

✅ دائمی بندوبست نے زمینداروں کو بااثر بنا دیا لیکن کسان غریب ہو گئے۔

✅ رعیت واری نظام نے حکومت اور کسان کا براہ راست رشتہ قائم کیا۔

✅ حیدرآباد میں دیش مکھ اور جاگیرداروں نے کسانوں کا زبردست استحصال کیا۔

✅ کسانوں کی بغاوتیں ان مظالم کے خلاف ردعمل تھیں۔