جماعت ہشتم - سماجی علوم
ریاست حیدرآباد میں آزادی کی جدوجہد باقی ہندوستان سے تھوڑی مختلف تھی۔ یہاں کے عوام کو نہ صرف انگریزوں بلکہ نظام کی مطلق العنانیت اور جاگیردارانہ نظام (ویٹی) کے خلاف بھی لڑنا پڑا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| آندھرا مہاسبھا | تلنگانہ میں سماجی و ثقافتی بیداری کی تحریک۔ |
| رضاکار | قاسم رضوی کی قیادت میں ایک نیم فوجی تنظیم۔ |
| آپریشن پولو | ریاست حیدرآباد کو ہند یونین میں شامل کرنے کی فوجی کارروائی۔ |
نظام دور اور ہند یونین میں شمولیت کے بعد کی صورتحال:
| خصوصیت | نظام کا دور | ہند یونین (آزادی کے بعد) |
|---|---|---|
| نظامِ حکومت | مطلق العنان (بادشاہت) | جمہوریت (عوام کی حکومت) |
| زبان و تعلیم | اردو کا غلبہ | مقامی زبانوں (تلگو وغیرہ) کو اہمیت |
| سماجی حقوق | بیگاری اور ویٹی کا رواج | بنیادی انسانی حقوق اور مساوات |
1. آندھرا مہاسبھا کا پہلا اجلاس (1930) میں منعقد ہوا۔
2. نظامِ حیدرآباد نے کو اپنی ریاست کی سرکاری زبان بنایا تھا۔
3. حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کا قیام میں عمل میں آیا۔
1. قاسم رضوی 'رضاکاروں' کا سربراہ تھا۔ ( ؟ )
2. نظامِ حیدرآباد فوراً ہندوستان میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ ( ؟ )
3. حیدرآباد کو 17 ستمبر 1948 کو ہند یونین میں شامل کیا گیا۔ ( ؟ )
| سوامی رامانند تیرتھ | ⇨ | حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس |
| کومرم بھیم | ⇨ | جل، جنگل، زمین |
| آپریشن پولو | ⇨ | فوجی کارروائی |
| رائے یتھو سنگم | ⇨ | کسانوں کی تنظیم |
ہدایت: تلنگانہ کے نقشے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کریں جہاں عوامی تحریکیں شدت پر تھیں:
عنوان: حیدرآباد کے مجاہدینِ آزادی
کام: اپنے علاقے یا حیدرآباد کے کسی ایک مشہور مجاہدِ آزادی (مثلاً چاکلی ایلمّہ، کومرم بھیم، یا سوامی رامانند تیرتھ) کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر ایک تصویری البم یا مضمون تیار کریں۔