✨ Developed by ABDUL WAJID, School Asst ✨

سبق 12: حیدرآباد میں آزادی کی تحریک

جماعت ہشتم - سماجی علوم

1️⃣ تعارف اور کلیدی الفاظ

ریاست حیدرآباد میں آزادی کی جدوجہد باقی ہندوستان سے تھوڑی مختلف تھی۔ یہاں کے عوام کو نہ صرف انگریزوں بلکہ نظام کی مطلق العنانیت اور جاگیردارانہ نظام (ویٹی) کے خلاف بھی لڑنا پڑا۔

لفظمعنی
آندھرا مہاسبھاتلنگانہ میں سماجی و ثقافتی بیداری کی تحریک۔
رضاکارقاسم رضوی کی قیادت میں ایک نیم فوجی تنظیم۔
آپریشن پولوریاست حیدرآباد کو ہند یونین میں شامل کرنے کی فوجی کارروائی۔

2️⃣ تقابلی جدول (Comparison Table)

نظام دور اور ہند یونین میں شمولیت کے بعد کی صورتحال:

خصوصیت نظام کا دور ہند یونین (آزادی کے بعد)
نظامِ حکومت مطلق العنان (بادشاہت) جمہوریت (عوام کی حکومت)
زبان و تعلیم اردو کا غلبہ مقامی زبانوں (تلگو وغیرہ) کو اہمیت
سماجی حقوق بیگاری اور ویٹی کا رواج بنیادی انسانی حقوق اور مساوات

3️⃣ خالی جگہ پُر کریں

1. آندھرا مہاسبھا کا پہلا اجلاس (1930) میں منعقد ہوا۔

2. نظامِ حیدرآباد نے کو اپنی ریاست کی سرکاری زبان بنایا تھا۔

3. حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کا قیام میں عمل میں آیا۔

4️⃣ صحیح یا غلط بتائیے

1. قاسم رضوی 'رضاکاروں' کا سربراہ تھا۔ ( ؟ )

2. نظامِ حیدرآباد فوراً ہندوستان میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ ( ؟ )

3. حیدرآباد کو 17 ستمبر 1948 کو ہند یونین میں شامل کیا گیا۔ ( ؟ )

5️⃣ جوڑ ملائیں

سوامی رامانند تیرتھحیدرآباد اسٹیٹ کانگریس
کومرم بھیمجل، جنگل، زمین
آپریشن پولوفوجی کارروائی
رائے یتھو سنگمکسانوں کی تنظیم

6️⃣ نقشہ کی سرگرمی (Mapping Activity)

ہدایت: تلنگانہ کے نقشے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کریں جہاں عوامی تحریکیں شدت پر تھیں:

  • حیدرآباد سٹی (مرکزِ تحریک)
  • نلگنڈہ (کسانوں کی مسلح جدوجہد کا گڑھ)
  • ورنگل

7️⃣ پراجیکٹ ورک

عنوان: حیدرآباد کے مجاہدینِ آزادی

کام: اپنے علاقے یا حیدرآباد کے کسی ایک مشہور مجاہدِ آزادی (مثلاً چاکلی ایلمّہ، کومرم بھیم، یا سوامی رامانند تیرتھ) کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر ایک تصویری البم یا مضمون تیار کریں۔