جماعت ہشتم - سماجی علوم
ہندوستان میں عدالتوں کی فیس اور وکلاء کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے غریب لوگ انصاف حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے عوامی مفاد کی عرضی (Public Interest Litigation - PIL) اور لوک عدالت جیسے ذرائع متعارف کروائے ہیں تاکہ انصاف ہر شہری کی دہلیز تک پہنچ سکے۔
| خصوصیت | عام عدالت (Regular Court) | لوک عدالت (Lok Adalat) |
|---|---|---|
| اخراجات | زیادہ کورٹ فیس اور وکلاء کے اخراجات۔ | کوئی کورٹ فیس نہیں ہوتی۔ |
| وقت | فیصلہ آنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ | فیصلہ فوری اور اسی دن ہو جاتا ہے۔ |
| طریقہ کار | پیچیدہ قانونی جرح اور گواہیاں۔ | باہمی رضامندی اور مصالحت۔ |
1. PIL کا مطلب کی عرضی ہے۔
2. وہ ادارے ہیں جو غریبوں کو مفت قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔
3. لوک عدالتوں کا بنیادی مقصد کے ذریعے تصفیہ کرنا ہے۔
سوال 1: PIL کس نے اور کب شروع کی؟
جواب: جسٹس پی این بھگوتی نے 1980 کی دہائی میں شروع کی۔
سوال 2: کیا کوئی تیسرا شخص کسی مظلوم کے لیے PIL دائر کر سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، کوئی بھی شخص یا تنظیم عوامی مفاد میں مقدمہ درج کروا سکتی ہے۔
سوال 3: NALSA کا قیام کس مقصد کے لیے ہوا؟
جواب: معاشرے کے کمزور طبقات کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے لیے۔
سوال 4: لوک عدالت کا فیصلہ کیا حتمی ہوتا ہے؟
جواب: جی ہاں، اس فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ دونوں پارٹیوں کی مرضی سے ہوتا ہے۔
سوال 5: غریبوں کے لیے کون سی قانونی سروس مفت ہے؟
جواب: وکیل کی فراہمی اور قانونی مشورہ (Free Legal Aid)۔
سوال 1: عوامی مفاد کی عرضی (PIL) غریبوں کے لیے کس طرح مددگار ہے؟
جواب: PIL کے ذریعے کوئی بھی غریب شخص یا اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص محض ایک خط یا پوسٹ کارڈ کے ذریعے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس میں قانونی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں اور غریبوں کے بنیادی حقوق (جیسے مزدوری، صاف پانی، صحت) کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
سوال 2: لوک عدالتوں کے کام کرنے کا طریقہ بیان کیجئے؟
جواب: لوک عدالتوں میں ریٹائرڈ جج اور سماجی کارکن موجود ہوتے ہیں۔ یہاں مقدمات کا فیصلہ باہمی بات چیت اور سمجھوتے سے کیا جاتا ہے۔ یہ عدالتیں سستی اور فوری انصاف فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
سوال 3: مفت قانونی امداد (Free Legal Aid) حاصل کرنے کے لیے کون اہل ہے؟
جواب: درج ذیل افراد اس کے اہل ہیں: (1) خواتین اور بچے، (2) درج فہرست ذاتوں اور قبائل (SC/ST) کے ارکان، (3) صنعتی مزدور، (4) قدرتی آفات کے شکار افراد، اور (5) وہ افراد جن کی سالانہ آمدنی حکومت کی مقررہ حد سے کم ہو۔
| پوسٹ کارڈ | ⇨ | PIL درج کرنے کا آسان طریقہ |
| جسٹس پی این بھگوتی | ⇨ | بانیِ PIL |
| مفت قانونی امداد | ⇨ | آرٹیکل 39-A |
| لوک عدالت | ⇨ | سستا اور فوری انصاف |
سرگرمی: اخبارات سے ایسی خبریں تلاش کریں جہاں عدالت نے غریبوں کے حق میں خود نوٹس (Suo Moto) لیا ہو یا کسی PIL کی بنیاد پر بڑا فیصلہ دیا ہو۔ ان تراشوں کو اپنی اسکریپ بک میں چسپاں کریں۔