جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں عوام کو اپنے حکمرانوں کے انتخاب کا حق حاصل ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں جمہوریت پوری دنیا میں تیزی سے پھیلی۔ اس سبق میں ہم پڑھیں گے کہ کس طرح مختلف ممالک میں آمریت کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت قائم ہوئی۔
ہم لیبیا اور میانمار (برما) کی مثالوں کا جائزہ لیں گے جہاں عوام نے اپنے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی۔ اس کے علاوہ، ہم بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کے تصور اور اقوام متحدہ (United Nations) کے کردار پر بھی بحث کریں گے کہ آیا دنیا کے ممالک کے درمیان بھی جمہوری تعلقات قائم ہیں یا نہیں۔
جمہوریت:
آمریت:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس) کے پاس ایک خاص اختیار ہوتا ہے جسے "ویٹو" کہتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ اگر ان پانچ میں سے کوئی ایک ملک بھی کسی فیصلے کے خلاف ووٹ دے دے، تو وہ فیصلہ مسترد ہو جاتا ہے، چاہے باقی تمام ممالک اس کے حق میں ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ طاقت جمہوریت کے اصولوں کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ مکمل طور پر جمہوری ادارہ نہیں ہے۔ اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
| کالم الف | کالم ب |
|---|---|
| 1. آنگ سان سوچی | الف) 5 مستقل اراکین |
| 2. معمر قذافی | ب) امریکہ |
| 3. ویٹو پاور | ج) میانمار |
| 4. ورلڈ بینک کا صدر | د) لیبیا |
| 5. اقوام متحدہ | ہ) نیویارک |
1 - ج (آنگ سان سوچی - میانمار)
2 - د (معمر قذافی - لیبیا)
3 - الف (ویٹو پاور - 5 مستقل اراکین)
4 - ب (ورلڈ بینک کا صدر - امریکہ)
5 - ہ (اقوام متحدہ - نیویارک)
| خصوصیت | جمہوریت | آمریت |
|---|---|---|
| حکمران کا انتخاب | عوام کے ووٹ سے | طاقت کے زور پر |
| آزادی اظہار | مکمل آزادی | پابندی |
| قانون کی حثیت | قانون سب کے لیے برابر | حکمران قانون سے بالاتر |