خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن تاریخ کے ہر دور میں انہیں مختلف قسم کے مظالم اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ اور سماجی برابری کے لیے حکومت ہند نے کئی اہم قوانین بنائے ہیں۔
اس سبق میں ہم "گھریلو تشدد سے تحفظ کا قانون 2005"، "جہیز ممانعت قانون"، اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے دیگر اقدامات کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ ان قوانین کا مقصد خواتین کو گھر کے اندر اور باہر محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
تلنگانہ حکومت نے بھی خواتین کی حفاظت کے لیے "SHE Teams" جیسی جدید فورسز تشکیل دی ہیں جو خواتین کو ہراسانی سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
گھریلو تشدد کا مطلب ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر کسی خاتون کے ساتھ:
یہ قانون صرف بیویوں کے لیے نہیں بلکہ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے بھی ہے۔
ہندو جانشینی ترمیمی قانون 2005 کے تحت:
گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت ہر ضلع میں تحفظ افسر مقرر کیے جاتے ہیں۔ ان کا کام:
| کالم الف | کالم ب |
|---|---|
| 1. گھریلو تشدد قانون | الف) 1961ء |
| 2. جہیز ممانعت قانون | ب) 181 |
| 3. کام کی جگہ پر ہراسانی | ج) 2005ء |
| 4. وومن ہیلپ لائن | د) تلنگانہ |
| 5. SHE Teams | ہ) 2013ء |
1 - ج (گھریلو تشدد قانون: 2005ء)
2 - الف (جہیز ممانعت قانون: 1961ء)
3 - ہ (کام کی جگہ پر ہراسانی: 2013ء)
4 - ب (وومن ہیلپ لائن: 181)
5 - د (SHE Teams: تلنگانہ)
| قانون | سال | مقصد |
|---|---|---|
| جہیز ممانعت قانون | 1961ء | جہیز کے لین دین کو روکنا |
| گھریلو تشدد قانون | 2005ء | گھر میں خواتین کا تحفظ |
| جنسی ہراسانی قانون | 2013ء | کام کی جگہ پر تحفظ |
| ہندو جانشینی (ترمیمی) قانون | 2005ء | وراثت میں حق |