تباہی (Disaster) ایک ایسا اچانک پیش آنے والا حادثہ ہے جو انسانی زندگی، املاک اور ماحول کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نقصانات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ متاثرہ معاشرہ اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ ان سے نمٹنے کے قابل نہیں رہتا۔
تباہیاں دو قسم کی ہوتی ہیں: قدرتی (جیسے زلزلہ، سیلاب، طوفان) اور انسانی (جیسے بم دھماکے، آگ لگنا، صنعتی حادثات)۔ اس سبق میں ہم مختلف قسم کی تباہیوں، ان کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔
ہم یہ بھی جانیں گے کہ سونامی، خشک سالی اور سیلاب کے دوران ہمیں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور حکومت کی طرف سے قائم کردہ ادارے (NDMA) اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
قدرتی تباہیاں: یہ قدرتی عمل کے نتیجے میں رونما ہوتی ہیں جن پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ مثلاً: زلزلہ، سیلاب، طوفان، سونامی۔
انسانی تباہیاں: یہ انسان کی غلطی، لاپرواہی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مثلاً: بم دھماکے، آگ لگنا، صنعتی حادثات، سڑک حادثات۔
سونامی آنے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
| کالم الف | کالم ب |
|---|---|
| 1. زلزلہ | الف) 2004ء |
| 2. سونامی | ب) ریکٹر اسکیل |
| 3. بھوپال گیس سانحہ | ج) بارش کی کمی |
| 4. خشک سالی | د) 1984ء |
| 5. ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ | ہ) 2005ء |
1 - ب (زلزلہ: ریکٹر اسکیل)
2 - الف (سونامی: 2004ء)
3 - د (بھوپال گیس سانحہ: 1984ء)
4 - ج (خشک سالی: بارش کی کمی)
5 - ہ (ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ: 2005ء)
| تباہی | حفاظتی اقدام |
|---|---|
| زلزلہ | میز کے نیچے چھپنا، کھلی جگہ جانا |
| سیلاب | اونچی جگہ پر جانا، بجلی بند کرنا |
| آگ | رینگ کر باہر نکلنا، 101 پر کال کرنا |
| سونامی | ساحل سے دور اونچی جگہ جانا |